-->

آئمہ محدثین کا قطعی قائدہ کلیہ ہے کہ فضائل معاویہ میں زرہ برابر بھی کچھ ثابت نہیں

﴿آئمہ محدثین کا قطعی قائدہ کلیہ ہے کہ فضائل معاویہ میں زرہ برابر بھی کچھ ثابت نہیں﴾

 

شيخ علامہ الشریف عبد الحی بن محمد بن الصدیق الغماریؒ الحسنی (المتوفی 1415ھ) لکھتے ہیں:

وقد نص الحفاظ، منهم إسحاق بن راهويه شيخ البخاري والنسائي، على أنه لم يصح في فضل معاوية شيء.

وهذه قاعدة كلية لا استثناء فيها، فليس في كتب السنة حديث صحيح في فضله، وما جاء في فضله فهو من و وضع النواصب أعداء الإمام علي .

والسبب في وضعهم الأحاديث في فضله، هو إغاظة علي ونكايته، كما بين ذلك الإمام أحمد بن حنبل، فقد سأله ابن عبد الله: ما تقول في علي ومعاوية؟ فأطرق ثم قال: إن عليا كان كثير الأعداء، ففتش أعداؤه له عيبا فلم يجدوا، فعمدوا إلى رجل قد حاربه فأطروه كيادا منهم لعلي.

قال الحافظ في "الفتح" بعد نقله هذا: فأشار بهذا إلى ما اختلقوه لمعاوية من الفضائل مما لا أصل له، وقد ورد في فضل معاوية أحاديث كثيرة لكن ليس فيها ما يصح من طريق الإسناد، قال: وبذلك جزم إسحاق بن راهويه والنسائي وغيرهما

 

اور حفاظ (حدیث) کی نص ہے، جن میں امام بخاریؒ اور امام نسائیؒ کے شیخ امام اسحاق بن راہویہؒ بھی شامل ہیں، کہ معاویہ کی فضیلت میں کچھ بھی صحیح نہیں ہے۔

یہ ایک قاعدہ کلیہ ہے جس میں کوئی استثناء نہیں ہے۔ سنن کی کتابوں میں ان کی فضیلت میں کوئی صحیح حدیث نہیں ہے، اور جو کچھ ان کی فضیلت میں آیا ہے وہ نواصب کا وضع کردہ ہیں جو امام علی المرتضیؑ کے دشمن ہیں۔

ان کے فضائل میں حدیثیں وضع کرنے کی وجہ سیدنا علی المرتضیؑ کو برھم کرنا اور انہیں نقصان پہنچانا تھا، جیسا کہ امام احمد بن حنبل نے بیان کیا ہے۔ انکے بیٹے امام عبداللہؒ نے ان سے پوچھا: آپ سیدنا علیؑ اور معاویہ کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ تو وہ خاموش ہو گئے اور پھر بولے: سیدنا علیؑ کے بہت سے دشمن تھے، اس لیے ان کے دشمنوں نے ان میں عیب تلاش کیا لیکن انہیں کوئی عیب نہ ملا۔ چنانچہ انہوں نے ایک ایسے شخص کی طرف رخ کیا جس نے ان سے جنگ کی تھی اور اس کی تعریف کی تاکہ سیدنا علی المرتضیؑ کو نقصان پہنچائیں۔

امام حافظ ابن حجرؒ نے "الفتح (الباری)" میں اسکو نقل کرنے کے بعد کہا: اس سے انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ معاویہ کے لیے جو فضائل گھڑے گئے ہیں ان کی کوئی اصل نہیں ہے۔ معاویہ کی فضیلت میں بہت سی احادیث آئی ہیں لیکن سند کے اعتبار سے ان میں سے کوئی بھی صحیح نہیں ہے۔ امام اسحاق بن راہویہؒ، امام نسائیؒ اور دیگر (آئمہ) نے اسی پر قطعی فیصلہ دیا ہے۔

(تنوير العقول برسائل عبدالحي الغماري في الفقه والأصول: صفحہ 179)

 

معلوم ہوا کہ آئمہ حفاظ حدیث کی یہ قطعی نص اور قائدہ کلیہ ہے کہ فضائل معاویہ میں ہر ایک چیز نواصب کی وضع کردہ ہے، اس میں سے کچھ بھی اصل میں ثابت نہیں ہے۔ نواصب جب سیدنا علی المرتضیؑ کی ذات میں عیب کی تلاش سے عاجز آگئے تو انہوں فضائل معاویہ گھڑنا شروع کردیے تاکہ اس سے سیدنا علی المرتضیؑ کو تکلیف پہنچا سکیں۔ آج تک نواصب یہی دونو کام کرتے آرہے ہیں، پہلے مولا علی المرتضیؑ کے عیب تلاش کرنے کی کوشش کریں گے پھر معاویہ کے فضائل گھڑنا شروع کردیں گے۔

شیخ رحمہ اللہ نے مزید بہت تفصیل سے اس پہ کلام کیا ہے، طلباء اسکا ضرور مطالعہ کریں۔

اور تمام طلباء اس قطعی نص اور قائدہ کلیہ کو یاد رکھیں کہ فضائل معاویہ میں زرہ برابر بھی کوئی چیز درست نہیں ہے، سب من گھڑت موضوع و غیر ثابت ہے جسے ناصبیوں نے گھڑا ہے۔

اللہ ہم سب کو ناصبیوں کے فتنے سے بچائے اور ہمیں مولا علی المرتضیؑ سے محبت کرنے والا بنائے، آئمہ محدثین کے اصولی قائدے کے مطابق ہمیں نواصب کا رد کرنے کی توفیق عطا فرماتا رہے۔ آمین ثم آمین۔

واسلام: ابو الحسنین شہزاد احمد آرائیں