امام نسائیؒ کے حضرت معاویہؓ کے متعلق ایک قول کی حقیقت
﴿امام نسائیؒ کے حضرت معاویہؓ کے متعلق ایک
قول کی حقیقت﴾
بعض نواصب کی جانب سے امام نسائیؒ کے
متعلق ایک روایت حجت بنائی جاتی ہے جس میں امام نسائیؒ نے حضرت معاویہ کو صحابہ
کرام کا دروازہ قرار دیا ہے۔ اس تحریر میں ہم اسی روایت کا جائزہ لیں گے اور
دیکھیں گے کہ اس روایت کی اسنادی حیثیت کیا ہے؟
امام ابن عساکرؒ (المتوفی 571ھ) لکھتے
ہیں:
فقد روي عن أبي عبد الرحمن النسائي
أنه سئل عن معاوية بن أبي سفيان صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إنما
الإسلام كدار لها باب، فباب الإسلام الصحابة، فمن آذى الصحابة إنما أراد
الإسلام، كمن نقر الباب إنما يريد دخول الباب. قال: فمن أراد معاوية فإنما أراد
الصحابة
اور ابی عبد الرحمن النسائی سے روایت
کیا گیا ہے کہ ان سے رسول اللہ ﷺ کے صحابی معاویہ بن ابی سفیان کے متعلق سوال کیا
گیا تو انہوں نے کہا: بےشک اسلام ایک گھر کی مانند ہے جسکا ایک دروازہ ہے، پس
اسلام کا دروازہ صحابہ ہیں، تو جس نے صحابہ کو اذیت دی تو اس نے اسلام (کو نشانہ
بنانے) کا ارادہ کیا، جیسے وہ شخص جو دروازہ کھٹکھٹاتا ہے تو بلاشبہ وہ دروازے میں
داخل ہونا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا: جو شخص معاویہ کا ارادہ کرتا ہے تو وہ صحابہ کے
متعلق ارادہ کرتا ہے۔
)تاريخ دمشق لابن عساكر: جلد 71 صفحہ 175 و 176(
)مختصر تاريخ دمشق: جلد 3 صفحہ 103(
امام ابن عساکرؒ اس روایت کو اس حکایت
کی بنیاد پہ امام نسائیؒ کے اوپر نواصب کے الزام کے جواب میں نقل کرتے ہیں، جس میں
امام نسائیؒ نے دمشق میں خصائص علیؑ کا درس دیا تو نواصب نے ان سے فضائل معاویہ
دریافت کرنا شروع کیے اور وہ سارا واقعہ جو امام نسائیؒ کی شہادت کو لیکر مشہور و
معروف ہے۔
امام ابن عساکرؒ اس کو نقل کرکے پھر
کہتے ہیں:
قال : وهذه الحكاية لا تدل على سوء
اعتقاد أبي عبد الرحمن في معاوية بن أبي سفيان، وإنما تدل على الكف عن ذكره بكل
حال
انہوں نے کہا: اور یہ حکایت ابو عبد
الرحمن امام نسائیؒ کے معاویہ بن ابی سفیان کے بارے میں کسی خراب عقیدے پر دلالت
نہیں کرتی، بلکہ ہر حال میں ان کا ذکر کرنے سے رک جانے پر دلالت کرتی ہے۔
)تاريخ دمشق لابن عساكر: جلد 71 صفحہ 175(
یہ کہنے کے بعد امام ابن عساکرؒ یہ
روایت نقل کردیتے ہیں تاکہ نواصب کا اعتراض رفع ہوسکے جو وہ امام نسائیؒ کی شہادت
کے واقعے کے متعلق روایات کو بنیاد بنا کر امام نسائیؒ پہ الزامات لگاتے ہیں، اس
سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ امام ابن عساکرؒ کے نزدیک امام نسائیؒ کی شہادت کا واقعہ
اس سے کہیں زیادہ مشہور تھا کہ اپنے اور مخالفین سبھی اسکی بنیاد پہ امام نسائیؒ
کے متعلق آراء رکھتے تھے، یعنی مخالفین نے امام نسائیؒ کے اوپر تہمتیں لگائی اور
حمایتیوں نے نہ صرف انکا دفاع بلکہ انکے موقف کو دلیل سمجھا۔
واضح رہے کہ امام ابن عساکرؒ نے اپنی
اس مطبوعہ کتاب میں اس روایت کی سند امام نسائیؒ سے نقل نہیں کی۔
اسی روایت کو امام ابن عساکرؒ سے ہی
ابو الحجاج یوسف المزیؒ (المتوفی 742ھ) نقل کرتے ہیں تو اسکی سند کا ذکر کرتے ہیں:
ثم روى بإسناده عن أبي الحسن علي بن
محمد القابسي، قال: سمعت أبا علي الحسن بن أبي هلال يقول: سئل أبو عبد الرحمن النسائي
عن معاوية بن أبي سفيان صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال۔۔۔۔۔۔۔ الخ
)تهذيب الكمال في أسماء الرجال: جلد 1 صفحہ 339(
اسی سند سے ہی امام ذہبیؒ بھی تہذیب
الکمال کا اختصار کرتے ہوئے اسکو باسند ہی نقل کرتے ہیں:
وقال أبو الحسن القابسي: سمعت الحسن
بن أبي هلال يقول: سئل النسائي عن معاوية، فقال۔۔۔۔۔۔۔۔ الخ
)تذهيب تهذيب الكمال في أسماء الرجال: جلد 1
صفحہ 153(
اسی روایت کو امام ابو الفضل قاضی
عیاض المالکیؒ (المتوفی 544ھ) نے بھی بغیر سند کے نقل کیا ہے:
وقال أبو علي بن أبي هلال: سئل
النسائي عن معاوية فقال: الإسلام دار والصحابة بابها فمن تكلم في أحد منهم بسوء
فإنما دخل الدار
)ترتيب المدارك وتقريب المسالك: جلد 1 صفحہ 162(
اور ہمارے ناقص علم کے مطابق اسکے بعد
جس کسی نے بھی اس روایت کو نقل کیا ہے تو اسکا ماخذ یہی ہے۔
سب سے پہلی علت اس روایت میں یہ ہے کہ
امام ابن عساکرؒ اور امام ابو الحسین علی بن محمد بن خلف القابسیؒ کے درمیان
انقطاع ہے، ہمیں کوئی معلوم نہیں کہ امام ابن عساکرؒ کو یہ روایت ان سے کس سند سے
کس واسطے سے معلوم ہوئی ہے۔
امام ابن عساکرؒ کی پیدائش 499ھ کی ہے
)طبقات علماء الحديث: جلد 4 صفحہ 107(
اور امام علی بن محمد القابسیؒ کی
وفات 403ھ کی ہے
)طبقات علماء الحديث: جلد 3 صفحہ 27(
لہزا یہ چیز بلکل واضح ہے کہ یہاں
پوری ایک صدی کا انقطاع موجود ہے جو میرے خیال میں کم از کم بھی دو واسطے ہونے کا
تقاضا کرتا ہے۔
اسکے علاوہ دوسری علت یہاں یہ ہے کہ
امام نسائیؒ سے سوال کرنے والا انکا شاگرد ابو علی الحسن بن ابی ہلال مجھول العين
ہے۔ اسکا نام ہمیں صرف امام علی بن محمد بن خلفؒ کے اساتذہ میں اور امام نسائیؒ کے
اصحاب میں ملا ہے، اسکے علاوہ اسکے متعلق کوئی معلومات ہمیں نہیں مل سکی۔ اس بنیاد
پہ بھی یہ روایت امام نسائیؒ سے ثابت نہیں ہوتی کیونکہ اس روایت کے بنیادی راوی کا
ہی کوئی علم نہیں ہے کہ وہ کون ہے؟ اسکی حیثیت کیا ہے؟ اسکی عدالت کیا ہے؟ وغیرہ
وغیرہ۔
لہزا قصہ مختصر یہ ہے یہ روایت امام
نسائیؒ سے ثابت نہیں، اسکی سند منقطع بھی ہے اور اسکا راوی بھی مجھول ہے۔ اور اس
روایت کو امام ابن عساکرؒ نے محض نواصب کے اعتراض کے رد میں نقل کیا ہے تاکہ نواصب
کا امام نسائیؒ کے اوپر حضرت معاویہ کی توہین کے الزام کو رد کیا جاسکے۔ جو امام
نسائیؒ کی شہادت کے واقعے پہ اصول حدیث کا اطلاق کرکے تمام آئمہ محدثین کی تصحیح
کا انکار کررہے ہوتے ہیں تو ان بالخصوص نواصب کے لیے یہ تو بدرجہ اولی ضعیف جدا
روایت ہے کیونکہ اس روایت کو محدثین نے اسی طرح قبول بھی نہیں کیا جسطرح انکی
شہادت کے واقعہ کی روایت کو قبول کیا ہے دوسرا یہکہ اس روایت کی سند اس روایت سے
کہیں زیادہ ضعف کی حامل ہے۔ اس روایت کو سوائے چند ایک محدثین کے کسی نے ذکر نہیں
کیا اور نہ ہی کسی نے قبول کیا ہے، پھر ہمارے معاصرین میں نواصب آئے اور انہوں نے
اس کو حجت بنانا شروع کردیا۔
اگر کوئی ناصبی بضد ہو کہ نہیں یہ
واقعہ اپنی ضعیف اور غیر ثابت سند کے باوجود قبول کیا جانا چاہیے تو ہمارا جواب یہ
ہے کہ پھر امام نسائیؒ کی شہادت کا پورا واقعہ بھی اسی طرح بغیر کسی جھجھک کے قبول
کیا جانا چاہیے، اور پھر ان دونو روایات کے مابین تضاد کو بھی دور کرنا چاہیے۔ ان
شاء اللہ تبھی حقیقت بلکل واضح اور روشن سورج کی عیاں ہوگی۔
هذا ما عندي والله اعلم بالصواب۔
تحریر و تحقیق: ابو الحسنین شہزاد
احمد آرائیں

Post a Comment