-->

سیدنا ابن عباس کے شعر کے متعلق تاریخ دمشق ابن عساکر کی روایت کی حقیقت

 

﴿سیدنا ابن عباسؓ کے شعر کے متعلق تاریخ دمشق ابن عساکر کی روایت کی حقیقت﴾

 

ہمیں ایک کذاب ناصبی کی تحریر موصول ہوئی جس میں اس نے تاریخ دمشق سے سیدنا ابن عباسؓ سے ایک شعر نقل کیا اور جھوٹ بولا کہ اسکی سند ضعیف ہے اور نہ صرف اس پہ اکتفا کیا بلکہ اسے ضعیف یعنی غیر ثابت جانتے ہوئے بھی حجت بنایا۔ جبکہ فی نفسہ تاریخ دمشق کھول کر اسکی سند کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں بلکل ہی مختلف بات نظر آتی ہے۔

 

امام ابن عساکرؒ (المتوفی 571ھ) روایت کرتے ہیں:

أخبرنا أبو بكر محمد بن شجاع أنا أبو عمرو بن مندة أنا أبو محمد بن يوة أنا أبو الحسن اللنباني (6) نا أبو بكر بن أبي الدنيا حدثني أبو أحمد بشر بن بشار نا داود بن المحبر عن أبيه عن معاذ بن محمد الليثي قال جاء نعي معاوية إلى ابن عباس والمائدة بين يديه فقال لغلامه ارفع ارفع ثم قال اللهم أنت أوسع لمعاوية ثم قال خير ممن يكون بعده وشر ممن كان قبله ثم قال جبل تزعزع ثم مال بجمعه * في البحر لارتقت عليك الأبحر *

 

معاذ بن محمد اللیثی سے مروی ہے کہ وہ کہتے ہیں: سیدنا ابن عباسؓ کے پاس حضرت معاویہ کی وفات کی خبر پہنچی جبکہ دستر خوان انکے سامنے بچھا ہوا تھا۔ انہوں نے اپنے غلام سے کہا: اسے اٹھا لو، اسے اٹھا لو۔ پھر کہا: اے اللہ تو معاویہ کیلیے بہت وسعت دینے والا ہے۔ پھر کہا: وہ ان لوگوں سے بہتر تھے جو انکے بعد آئیں گے اور کمتر تھے ان لوگوں سے جو ان سے پہلے تھے۔ پهر انہوں نےكہا:

وہ ایک پہاڑ پھٹ گیا، پھر اپنے سہارے سمیت جھک کر گر پڑا

اگر سمندر میں گرتا تو تیرے سبب تمام سمندر جوش میں آ جاتے

)تاريخ دمشق لابن عساكر: جلد 59 صفحہ 235 و 236(

 

یہ اس شعر کی بنیادی روایت ہے۔

اس روایت کو امام ابن عساکرؒ نے باسند امام ابن ابی دنیا سے روایت کیا ہے، ہم انکی اپنی کتاب کی طرف رجوع کریں تو وہاں ہمیں اسکی کوئی سند لکھی ہوئی نہیں ملتی کیونکہ اس کتاب میں اس کی تمام اسانید کو حذف کیا گیا ہے، جبکہ امام ابن عساکرؒ نے انہی سے ہی اسے باسند ذکر کیا ہے جس سے ہمیں انکی کتاب میں بھی اس روایت کی سند کا علم ہوجاتا ہے۔

)حلم معاوية لابن أبي الدنيا: رقم 9(

 

اس کی سند کے راوی اور انکا رتبہ مندرجہ ذیل ہے:

1۔ محمد بن شجاع اللفتواني : ثقہ

)سير أعلام النبلاء - ط الرسالة: جلد 20 صفحہ 74(

2۔ أبو عمرو بن منده : ثقہ

)سير أعلام النبلاء - ط الرسالة: جلد 18 صفحہ 440(

3۔ الحسن بن يوه الأصبهاني : مجھول

)تكملة الإكمال - ابن نقطة: جلد 1 صفحہ 287 رقم 380(

4۔ أحمد بن محمد اللنباني : ثقہ

)التذييل علي كتب الجرح والتعديل: جلد 1 صفحه 22(

5۔ ابن أبي الدنيا القرشي : صدوق

)تقريب التهذيب: صفحہ 321 رقم 3591(

6۔ بشر بن بشار البغدادي : مجهول

)تاريخ الإسلام - ت بشار: جلد 5 صفحہ 1092 رقم 107(

7۔ داود بن المحبر الطائي : کذاب متروک

)تقريب التهذيب: صفحہ 200 رقم 1811(

8۔ محبر بن قحذم الثقفي : ضعیف

)لسان الميزان ت أبي غدة: جلد 6 صفحہ 465 رقم 6312(

9۔ معاذ بن محمد الليثي : مجھول

مجھے اسکا ترجمہ نہیں ملا۔

یہ اس روایت کے راویوں کا کل حال احوال ہے. میں نے اختصار کے پیش نظر انکے لیے کتب رجال میں سے صرف ایک کتاب کا حوالہ دینا ہی کافی سمجھا ہے۔

قارئین ملاحظہ کیجیے کہ یہ وہ سند ہے جس سے یہ اشعار بنیادی طور پہ نقل ہوئے ہیں، اور اس میں تین مجھول راوی، ایک ضعیف اور ایک کذاب راوی موجود ہے۔ پھر ہم اس بات کا بھی پتہ نہیں لگا سکتے کہ مرکزی راوی کا سماع سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے ہے یا نہیں؟ کیونکہ اس کے لیے راوی کا معلوم ہونا ضروری ہے۔

اتنی واہیات سند کو ضعیف قرار دینے کے بعد قابل قبول سمجھنے کا کام سوائے کسی پاگل کے کوئی دوسرا نہیں کر سکتا، یہ سند روزِ روشن کی طرح بلکل عیاں ہے کہ یہ روایت گھڑی گئی ہے یعنی موضوع ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

امام ابن عساکرؒ نے اس روایت کو نقل کرکے پھر ایک اور روایت بھی اسی کے ساتھ نقل کی ہے، جسکا متن اس سے مختلف ہے کیونکہ اس متن میں سیدنا ابن عباسؓ کے یہ اشعار اس پچھلی روایت کے سیاق میں نہیں بلکہ کسی اور شاعر کے اشعار جنکو سیدنا عبد اللہ بن زبیرؓ نے بیان کیے تھے انکے جواب میں بیان کیے گئے ہیں۔ اور وہ روایت مندرجہ ذیل ہے:

 

أخبرنا أبو العز السلمي مناولة وإذنا وقرأ علي إسناده أنا محمد بن الحسين أنا المعافى بن زكريا (1) نا محمد بن القاسم الأنباري حدثني أبي أنا أبو الهيثم الغنوي قال لما (2) نعي معاوية قال عبد الله بن الزبير ذهب والله عز بني أمية وكان والله كما قال الشاعر (3) ركوب المنابر ذو همة * معن بخطبته مجهر تثوب إليه هوادي الكلام * إذا ضل خطبته المهمر * قال ولما بلغ نعيه عبد الله بن العباس قال جبل تصدع ثم مال بركنه * في البحر لارتقت عليك الأبحر *

 

ابو الہیثم الغنوی سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: جب حضرت معاویہ کی وفات کی خبر پہنچی تو سیدنا عبد اللہ بن زبیرؓ نے کہا: اللہ کی قسم بنو امیہ کی عزت رخصت ہوگئی اور اللہ کی قسم وہ بلکل ایسے ہی تھے جیسا شاعر نے کہا ہے کہ:

وہ منبروں پر چڑھنے والا، بلند ہمت کا مالک تھا

اپنے خطبے کے لیے پوری طرح تیار اور آراستہ تھا

کلام کے پیش رو حصے اس کی طرف مائل ہوتے تھے

جب ماہر خطیب بھی اپنے خطبے میں چوک جاتا تھا

اور جب انکی وفات کی خبر سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ کو پہنچی تو انہوں نے کہا:

وہ ایک پہاڑ پھٹ گیا، پھر اپنے سہارے سمیت جھک کر گر پڑا

اگر سمندر میں گرتا تو تیرے سبب تمام سمندر جوش میں آ جاتے.

)تاريخ دمشق لابن عساكر: جلد 59 صفحہ 236(

یہ روایت پچھلی روایت سے متن کے لحاظ سے تضاد رکھتی ہے. اس سب سے بڑی علت کو نظر انداز بھی کردیں تو بھی اس روایت کا حال پچھلی روایت سے کم نہیں ہے۔

 

اس روایت کے راویوں کا حال مندرجہ ذیل ہے:

1۔ أبو العز أحمد بن عبيد الله السلمي : اقراء بوضع الحدیث

)لسان الميزان ت أبي غدة: جلد 1 صفحہ 532 رقم 623(

2۔ محمد بن الحسين الجازري : صدوق

)تاريخ بغداد ت بشار: جلد 3 صفحه 55 رقم 678(

3۔ المعافى بن زكريا الجريري : ثقہ

)سير أعلام النبلاء - ط الرسالة: جلد 16 صفحہ 544(

4۔ محمد بن القاسم الأنباري : ثقہ صدوق

)تاريخ الإسلام - ت بشار: جلد 7 صفحہ 564(

5۔ القاسم بن محمد الأنباري : ثقہ صدوق

)تاريخ الإسلام - ت بشار: جلد 7 صفحہ 93(

6۔ أبو الهيثم الغنوي : مجھول

مجھے اس راوی کا ترجمہ نہیں ملا۔

 

یہ اس سند کے راویوں کا مکمل حال احوال ہے، اس میں امام ابن عساکرؒ کے استاد ابو العز السلمی ضعیف تو ہیں ہی مگر اسکے ساتھ ساتھ انہوں نے خود احادیث گھڑنے کا اقرار کر رکھا ہے، خود امام ابن عساکرؒ نے یہ بیان کیا ہے کہ اس نے انکے سامنے حدیث گھڑنے کا اعتراف کیا تھا جوکہ آپ حوالہ کھول کر اصل کتب رجال میں بخوبی پڑھ سکتے ہیں۔

لہذا جو شخص خود اعتراف کرتا ہو کہ اس نے حدیث گھڑی ہے تو اسکی روایت کس طرح قابلِ قبول ہو سکتی ہے؟ ایسا کام سوائے کسی بے وقوف کے کوئی اور کر ہی نہیں سکتا۔

 

اسکے ساتھ ساتھ اس روایت کا بنیادی راوی ابو الہیثم الغنوی کون ہے؟ مجھے اسکا علم نہیں ہوسکا کیونکہ مجھے اسکا ترجمہ ہی نہیں ملا کہ کس طبقے سے تعلق رکھتا ہے۔

 

اسکے علاوہ یہ سند منقطع بھی ہے۔ کیونکہ القاسم بن محمد الانباری کی تاریخ وفات 328ھ ہے۔ اور ابو الہیثم الغنوی انکا استاد ہے جو یہ روایت بیان کررہا ہے تو ہم اس سے اسکے دور کا اندازہ بھی لگا سکتے ہیں، اور اس طرح اس کے اور سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ کے درمیان تقریبا دو صدیوں کا فاصلہ بنتا ہے۔ لہذا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ سند منقطع بھی ہے۔

 

یہ تین علتیں یعنی پہلا راوی کذاب، دوسرا مرکزی راوی مجھول اور تیسرا سند منقطع ہونا اس سند میں موجود ہیں۔

مندرجہ بالا تینوں علتوں کی بنیاد پہ یہ بلکل واضح ہے کہ یہ روایت اس سند سے بھی موضوع و من گھڑت ہے۔

 

یہ روایت المعافی بن زکریا (المتوفی 390ھ) کی کتاب میں بھی موجود ہے، مگر وہاں بھی یہ بے سند ہے۔ اور یوں وہاں سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ اور المعافی بن زکریا کے درمیان تقریبا 3 صدیوں کا فاصلہ موجود ہے۔ یہ تین صدیوں کا خلا کس طرح پر ہوگا؟ واللہ اعلم

)الجليس الصالح الكافي والأنيس الناصح الشافي: صفحہ 649(

 

اسی طرح محمد بن یزید المبرد (المتوفی 285ھ) نے بھی اسے سیدنا ابن عباسؓ کی جانب بغیر کسی سند کے منسوب کیا ہے۔ لہزا یہاں بھی تقریبا دو صدیوں کا فاصلہ یعنی انقطاع موجود ہے۔

)التعازي [والمراثي والمواعظ والوصايا]: صفحہ 150(

 

اس کے برعکس الزبير بن بكار (المتوفی 256ھ) نے ان اشعار کی نسبت ہارون الرشید کی جانب کی ہے کہ اس نے یہ اشعار عبد اللہ بن مصعب کی وفات پہ پڑھے تھے۔

)جمهرة نسب قريش وأخبارها: صفحہ 146(

 

لہزا ان اشعار کو کسکی جانب منسوب کیا گیا ہے، اس پہ بھی اختلاف موجود ہے۔ تو بےسند اور موضوع اسناد سے انکی نسبت سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ کی جانب کرنا ہرگز جائز نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ سیدنا ابن عباسؓ کی جانب یہ اشعار گھڑ کر جھوٹے منسوب کیے گئے ہیں اور سیدنا ابن عباسؓ کا ان اشعار سے کوئی تعلق نہیں۔

انہیں ضعیف قرار دیکر قبول کرنے والے ناصبی نہ صرف جھوٹے اور خائن ہیں بلکہ وہ جان بوجھ کر جاہل عوام الناس کو دھوکہ دینے والے بھی ہیں۔

هذا ما عندي والله اعلم بالصواب

والسلام: ابو الحسنین شہزاد احمد آرائیں