-->

امیر المومنین سیدنا علی المرتضیؑ کے مطابق یوم عرفہ کے دن غسل کرنا مستحب ہے

﴿امیر المومنین سیدنا علی المرتضیؑ کے مطابق یوم عرفہ کے دن غسل کرنا مستحب ہے﴾

 

امام ابن حجر عسقلانیؒ (المتوفی 852ھ) اپنی کتاب المطالب العالیہ میں امام حافظ ابو الحسن مسدد بن مسرهدؒ (المتوفی 228ھ) کی کتاب مسند مسدد سے نقل کرتے ہیں:

قال مسدد حدثنا يحيى عن شعبة عن عمرو بن مرة عن زاذان قال " إن رجلا سأل عليا رضي الله عنه عن الغسل فقال اغتسل كل يوم إن شئت قال لا بل الغسل أي المستحب قال ‌اغتسل ‌كل ‌يوم ‌جمعة ‌ويوم ‌الفطر ‌ويوم ‌النحر ‌ويوم ‌عرفة "

 

تابعی ابو عبد اللہ زادان الکندیؒ کہتے ہیں: ایک شخص نے سیدنا علی المرتضیؓ سے غسل کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: اگر تم چاہو تو ہر روز غسل کرو۔ اس نے کہا: نہیں بلکہ وہ غسل جو مستحب ہے۔ انہوں (سیدنا علی المرتضیؑ) نے کہا: ہر جمعہ کے دن، عید الفطر کے دن، عید الاضحی کےدن اور یوم عرفہ کے دن کا غسل (مستحب ہے)۔

(المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية: جلد 4 صفحہ 671 رقم 693، صحیح)

 

کتاب کے محقق شیخ سعد بن ناصر الشثری اسکی سند کو حسن لذاتہ قرار دیتے ہیں جوکہ میرے نزدیک درست نہیں ہے بلکہ اسکی سند صحیح لذاتہ ہے۔

 

اسی روایت کو امام ابو العباس شہاب الدین احمد بن ابی بکر البوصیریؒ (المتوفی 840ھ) بھی مسند مسدد سے بےسند نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں:

رواه مسدد، ورجاله ثقات

 

اسے امام مسددؒ نے روایت کیا ہے اور اسکے رجال ثقہ ہیں۔

(إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة: جلد 2 صفحہ 265 رقم 1478)

 

اسی روایت کو امام ابو بکر عبد اللہ ابن ابی شیبہؒ (المتوفی 235ھ) اپنی مصنف میں اس سند سے درج کرتے ہیں:

حدثنا حفص عن حجاج عن عمرو بن مرة عن زاذان قال: سئل (علي) عن غسل يوم الجمعة فقال: (الغسل) يوم الجمعة وفي العيدين ويوم عرفة

 

تابعی ابو عبد اللہ زادان الکندیؒ کہتے ہیں: سیدنا علی المرتضیؑ سے جمعہ کے دن کے غسل کے متعلق سوال ہوا تو انہوں نے کہا: غسل تو جمعہ، عیدین اور عرفہ کے دنوں کا ہے۔

(المصنف ابن أبي شيبة - ت الشثري: جلد 4 صفحہ 71 رقم 5095، وسندہ ضعیف)

 

اسکی سند ضعیف ہے، حجاج بن ارطاة متکلم فی راوی ہے، اس سے احتجاج نہیں کیا جاسکتا نیز یہکہ یہ راوی مدلس بھی ہے اور سماع کی صراحت نہیں کررہا نيز حجاج بن ارطاة ساتویں طبقے کا راوی ہے اور عمرو بن مرۃ پانچویں طبقے کا لہزا طبقات کا فرق بھی اسکی معنن پہ مزید سوال کھڑا کرتا ہے اور اسکے علاوہ حجاج بن ارطاۃ کا عمرو بن مرۃ سے سماع میرے علم میں نہیں ہے۔ لہزا ان تمام وجوہات کی بنا کی پہ اس کی ضعف کا امکان حد درجہ بڑھ جاتا ہے۔ یہ چیز متن میں واضع بھی ہے کہ حجاج بن ارطاۃ نے اس روایت کے متن کو محفوظ نہیں کیا اور منکر متن بیان کردیا ہے۔ اوپر ثقات کی روایت کو مد نظر رکھ کر اسکی روایت کو دیکھیں تو مخالفت اور خطا صاف صاف عیاں ہوتی ہے۔ لہزا مصنف ابن ابی شیبہ کی روایت ضعیف ہے، مصنف ابن ابی شیبہ کے محقق شیخ سعد بن ناصر الشثری نے مصنف ابن ابی شیبہ کے طریق کو حجاج بن ارطاۃ کے مدلس ہونے کی وجہ سے معنن بیان کرنے پہ منقطع قرار دیا ہے اور یہ سند مرسل خفی کی اچھی مثال ہے۔

اور مسند مسدد کی روایت بلکل صحیح ہے جوکہ ہم سب سے پہلے نقل کرچکے ہیں۔

} یہ روایت متعدد طرق سے ثابت ہے، جن میں ایک مزید طرق یہاں کلک کرکے پڑہیے۔ {

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس تمام بحث سے معلوم ہوا کہ سیدنا علی المرتضیؑ کے مطابق ان چار ایام میں غسل کرنا مستحب ہے لہزا اسکا احتمام خصوصیت سے کرنا چاہیے۔

✍️: دکتور ابو الحسنین شہزاد احمد آرائیں